ابنا: امريکي فوجيوں نے سن دو ہزار ايک ميں اس ملک پر حملے سے ليکر اب تک کئ بار کلسٹر بموں کو استعمال کيا ہے جس سے بڑے پيمانے پر عام شہري ہلاک ہوئے - بمباري کے وقت ہلاک ہونے والوں کے علاوہ کلسٹر بموں کے کچھ حصوں ميں بعد ميں ہونے والے دھماکوں ميں بھي لوگوں کي جان جاتي ہے -
اکثر عالمي تنظيميں کلسٹر بموں پر پابندي کي خواہاں ہيں کيونکہ ان بموں سے عام شہريوں کي ہلاکت ميں غير معمولي اضافہ ہو جاتاہے - کلسٹر بم چونکہ دھماکے سے قبل کئ چھوٹے چھوٹے بموں ميں تقسيم ہو کر پھيل جاتا ہے ، اس لئے عام شہريوں کے لئے انتہائي خطرناک سمجھا جاتا ہے.
دنيا ميں سب سے زيادہ امريکہ ان بموں کو استعمال کرتا ہے اور وہ ويتنام ، عراق اور افغانستان کي جنگوں ميں ان بموں کو استعمال کرکے ہزاروں بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے.
صيہوني حکومت نے بھي سن دو ہزار چھے ميں لبنان کے خلاف تينتيس روزہ جنگ کے دوران کلسٹر بموں کا استعمال کيا تھا –بمباري کے وقت نہ پھٹنے والے رنگارنگ کلسٹر بم بچوں کي توجہ اپني طرف مبذول کرتے ہيں اس لئے ان کے زيادہ تر شکار بچے ہوتے ہيں.
........
/169